Skip to content
بلاگ

گائیڈ

Toys ka business: بچوں کے کھلونوں کا آن لائن کاروبار

Storelala Team

کھلونوں کے کاروبار میں پارسل دو باتوں پر لوٹتا ہے: کھلونا سوچ سے چھوٹا نکلا، یا چلا نہیں۔ یہاں ہے کہ کس عمر اور کون سے کھلونے سے شروع کریں، بیچنے سے پہلے حفاظت کی کیا جانچ کریں، ہر صفحے پر کیا لکھیں، ڈبہ کیسے پیک کریں، اور عید اور سالگرہ کی تیاری کب کریں۔ یعنی toys ka business kaise kare کا عملی جواب۔

1. کس عمر اور کون سا کھلونا

کھلونا بچہ استعمال کرتا ہے مگر خریدتے ماں باپ، خالہ، ماموں اور دوست ہیں۔ وہ دو سوال پوچھتے ہیں: یہ میرے بچے کی عمر کے لیے ٹھیک ہے، اور پہنچ کر ٹوٹا ہوا یا بند تو نہیں نکلے گا۔ آپ کا پورا کاروبار انہی دو سوالوں کا جواب ہے۔

شروع میں ایک عمر اور ایک قسم چنیں:

  • سیکھنے والے کھلونے۔ لکڑی کے پزل، شکلیں اور رنگ ملانے والے بلاک، گنتی اور حروف کے کھلونے، جنہیں لوگ Montessori طرز کے کھلونے کہہ کر ڈھونڈتے ہیں۔ یہاں والدین لکڑی کی صفائی اور رنگ غور سے دیکھتے ہیں۔
  • سافٹ ٹوائز۔ ٹیڈی بیئر اور بھرے ہوئے جانور۔ ہلکے ہیں، کم ٹوٹتے ہیں، اور تحفے میں دیے جاتے ہیں۔ ہاتھ سے بنے کھلونے بیچنے ہیں تو کروشیا کا کاروبار والی گائیڈ دیکھیں۔
  • باہر کے کھلونے۔ گیند، بیڈمنٹن، رسی، پانی کی پچکاری، چھوٹی سائیکل۔ یہ موسم کے ساتھ چلتے ہیں، اور بڑی چیزوں کا کورئیر خرچ زیادہ ہے۔
  • تحفے کے سیٹ۔ سالگرہ کے لیے ایک ڈبے میں تین چار چیزیں، عمر کے حساب سے۔ تحفہ دینے والے کو عمر کے حساب سے بنا سیٹ مل جائے تو اسے سوچنا نہیں پڑتا۔

بیٹری اور ریموٹ والے کھلونے، جیسے گاڑیاں اور روبوٹ، دکان میں بہت دلکش لگتے ہیں، مگر ان میں «چلتا نہیں» کی واپسی اور کورئیر کی شرطیں دونوں ہیں۔ پہلا مال بغیر بیٹری والا رکھیں، اور بیٹری والے کھلونے تب جوڑیں جب جانچ کا طریقہ بن جائے۔

2. مال کہاں سے لیں

کھلونے شہروں کے تھوک بازاروں میں ملتے ہیں۔ ہمیں کسی خاص کھلونا مارکیٹ کا کوئی بھروسے والا ذریعہ نہیں ملا، اس لیے کوئی نام نہیں لکھ رہے۔ اپنے شہر کا تھوک بازار خود دیکھیں، اور ہر شہر کی تھوک مارکیٹیں، WhatsApp پر دوسرے شہر سے مال منگوانا اور سپلائر کو پرکھنا wholesale suppliers والی گائیڈ میں ہے۔

ریٹ اور کم از کم مقدار ہر دکان کی اپنی ہے۔ پہلا مال لینے سے پہلے یہ پوچھیں:

  • ایک ڈیزائن کم از کم کتنا لینا ہوگا، اور کیا ایک ڈبہ کھول کر الگ پیس مل سکتے ہیں۔
  • ڈبے پر عمر لکھی ہے یا نہیں، اور کھلونا کس ملک کا بنا ہے۔
  • ٹوٹا یا بند کھلونا نکلے تو بدلیں گے یا نہیں۔
  • دوسری بار وہی ڈیزائن ملے گا یا یہ ایک بار کا مال ہے۔

چھوٹی کھیپ سے آزمائیں

پہلی بار ہر ڈیزائن کے چند پیس لیں، زیادہ ڈیزائن اور کم مقدار۔ ہر ایک کا ایک پیس گھر پر کھولیں، کھیلیں، گرائیں اور اگلے حصے کی جانچ کریں۔ جو ڈیزائن پہلے ہفتوں میں بکیں، انہی کا دوبارہ آرڈر دیں۔ کھلونوں میں فیشن جلدی بدلتا ہے، اور کارٹون کا کردار جو آج چل رہا ہے، چند مہینے بعد گودام میں پڑا رہ سکتا ہے۔

کارٹون اور مشہور برانڈ کے نام والا مال لینے سے پہلے سوچیں۔ نقلی مال پر خریدار کی شکایت بھی آ سکتی ہے، اور اصل برانڈ والا بھی۔ بغیر برانڈ کے اچھے کھلونے کو اپنے اسٹور کے نام سے بیچنا زیادہ پکا راستہ ہے۔

3. بیچنے سے پہلے حفاظت کی جانچ

ہم نے پاکستان میں کھلونوں کا کوئی لازمی معیار جانچ کر نہیں دیکھا، اس لیے کوئی قانون نہیں لکھ رہے۔ مگر امریکہ کے بچوں کے ڈاکٹروں کی تنظیم اور وہاں کا حفاظتی ادارہ کچھ صاف باتیں کہتے ہیں، اور یہ جانچ آپ گھر پر کر سکتے ہیں۔ ہر نئے ڈیزائن کا ایک پیس کھول کر یہ دیکھیں:

  • چھوٹے حصے۔ American Academy of Pediatrics کی چوکنگ سے بچاؤ کی گائیڈ چھوٹے یا نکلنے والے حصوں والے کھلونوں سے بچنے کو کہتی ہے۔ امریکی ادارہ CPSC 3 سال سے کم عمر کے بچوں کے سامان میں ایسے چھوٹے حصوں پر پابندی لگاتا ہے جن سے گلا گھٹ سکے۔ یہ امریکہ کا قاعدہ ہے، مگر اچھا پیمانہ ہے۔ آنکھیں، پہیے، بٹن اور ڈھکن زور سے کھینچیں اور مروڑیں۔ جو الگ ہو جائے اور منہ میں جا سکے، وہ کھلونا 3 سال سے چھوٹے بچوں کے لیے نہ بیچیں، اور صفحے پر صاف لکھیں۔
  • تیز کنارے اور نوکیں۔ CPSC کی کھلونوں کی حفاظت کی گائیڈ کے مطابق امریکہ میں 8 سال سے کم عمر کے کھلونوں میں خطرناک تیز کنارہ یا نوک نہیں ہونی چاہیے۔ پلاسٹک کے جوڑ پر ہاتھ پھیریں، اور کھلونا ایک بار گرا کر دیکھیں کہ ٹوٹ کر تیز ٹکڑا تو نہیں بنتا۔
  • بیٹری کا ڈھکن۔ AAP بٹن اور کوائن بیٹری کو چوکنگ کے ساتھ اندرونی جلن کا خطرہ بھی کہتی ہے۔ ڈھکن پیچ سے بند ہو، صرف دبا کر کھلنے والا نہ ہو۔ جس کھلونے کا ڈھکن ہاتھ سے کھل جائے، اس میں بٹن بیٹری ہو تو وہ نہ بیچیں۔
  • مقناطیس۔ CPSC کی وہی گائیڈ چھوٹے ڈھیلے مقناطیس کو الگ خطرہ مانتی ہے۔ مقناطیسی بلاک اور کھیل میں دیکھیں کہ مقناطیس اندر بند ہیں اور کھیل کر نکلتے نہیں۔
  • رنگ اور بو۔ ڈبہ کھولتے ہی تیز کیمیکل کی بو آئے، یا ناخن سے رنگ اترے، تو وہ مال چھوٹے بچوں کے لیے نہ رکھیں۔ چھوٹے بچے کھلونا منہ میں ڈالتے ہیں۔
  • غبارے۔ AAP غبارے کو 8 سال تک کے بچوں کے لیے چوکنگ کا خطرہ کہتی ہے۔ سالگرہ کے سیٹ میں غبارے ہوں تو صفحے پر یہ بات لکھیں۔

یہ جانچ ہر کھیپ میں دوبارہ کریں۔ ایک ہی دکان سے دوسری بار آیا ہوا مال پہلے والے جیسا ہو، یہ ضروری نہیں۔

4. بیٹری والے کھلونے

بیٹری والا کھلونا دروازے پر نہ چلے تو COD میں پارسل وہیں سے لوٹ آتا ہے۔ اس سے بچنے کا طریقہ سیدھا ہے:

  1. ہر پیس بھیجنے سے پہلے چلا کر دیکھیں: ہر بٹن، ہر لائٹ، ریموٹ اور آواز۔
  2. ریموٹ والی گاڑی کا ریموٹ اور گاڑی دونوں ایک ساتھ آزمائیں، اور ایک ہی جوڑا پیک کریں۔
  3. چلانے کی ویڈیو فون پر بنا لیں، آرڈر نمبر کے ساتھ۔ شکایت آئے تو آپ کے پاس ثبوت ہے۔
  4. صفحے پر لکھیں کون سا سیل لگتا ہے، کتنے، اور ساتھ آتے ہیں یا نہیں۔ ریچارج ہوتا ہے تو تار کون سی ہے۔
  5. ڈبے میں ایک پرچی رکھیں: سیل کیسے لگائیں اور سوئچ کہاں ہے۔ «چلتا نہیں» کی شکایت کبھی کبھی بس بند سوئچ یا الٹا لگا سیل ہوتی ہے۔

کورئیر بیٹری کے بارے میں اپنی شرطیں رکھتے ہیں، اور یہ سروس اور وقت کے ساتھ بدلتی ہیں۔ بک کرنے سے پہلے اپنے کورئیر سے لکھ کر پوچھیں: سیل کھلونے میں لگا کر بھیجیں یا الگ، اور ریچارج ہونے والی لیتھیم بیٹری والا کھلونا جاتا ہے یا نہیں۔ پاور بینک کے بارے میں کورئیر اور IATA کیا کہتے ہیں، وہ موبائل ایکسیسریز کا کاروبار والی گائیڈ میں ہے، اور لیتھیم بیٹری والے کھلونوں پر بھی یہی سوال بنتا ہے۔

5. ہر صفحے پر عمر اور ناپ

کھلونے کے صفحے پر دو چیزیں ہر حال میں ہوں: کس عمر کے لیے ہے، اور کتنا بڑا ہے۔ تحفہ دینے والا عمر دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے، اور ناپ نہ لکھا ہو تو «چھوٹا نکلا» کی واپسی آتی ہے۔

  • عمر۔ «3 سال اور اوپر»، «1 سے 3 سال»۔ ڈبے پر لکھی عمر ہو تو وہی لکھیں، کم نہ کریں۔
  • ناپ انچ میں۔ اونچائی، لمبائی اور چوڑائی۔ سافٹ ٹوائے کی بیٹھی حالت میں اونچائی الگ لکھیں۔
  • ڈبے میں کیا ہے۔ کتنے پیس، کتنے بلاک، ریموٹ، سیل، تار۔
  • میٹیریل۔ لکڑی، پلاسٹک، کپڑا۔ پکا پتا نہ ہو تو اندازے سے «بی پی اے فری» یا «نان ٹاکسک» نہ لکھیں۔
  • حفاظت کی بات۔ چھوٹے حصے ہوں تو «3 سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے نہیں» صاف لکھیں۔

یہ سب ایک ترتیب سے لکھنے کے لیے مفت product description generator سے شروع کر کے اپنی جانچ کی باتیں جوڑ دیں۔

6. تصویریں: ہاتھ میں یا کسی چیز کے ساتھ

کھلونے کی تصویر میں ناپ کا اندازہ نہیں ہوتا۔ سفید پس منظر پر اکیلا ٹیڈی بیئر دو فٹ کا بھی لگ سکتا ہے اور چھ انچ کا بھی۔ ہر کھلونے کی یہ تصویریں رکھیں:

  • صاف پس منظر پر پورا کھلونا، سامنے سے۔
  • کھلونا کسی بڑے کے ہاتھ میں، یا کسی ایسی چیز کے ساتھ جو ہر گھر میں ہے: پانی کی بوتل، کپ، موبائل فون۔
  • ڈبے میں جو کچھ آتا ہے، سب ایک ساتھ بچھا کر۔
  • بیٹری والے کھلونے کی چلتی ہوئی چھوٹی ویڈیو: لائٹ، آواز، حرکت۔
  • ڈبے کی تصویر، اگر ڈبے کے ساتھ بیچ رہے ہیں۔ تحفہ دینے والا ڈبہ دیکھ کر خریدتا ہے۔

بچے کے ساتھ کھیلتے ہوئے تصویر اچھی بکتی ہے، مگر اپنے یا رشتہ دار کے بچے کی ہو، والدین کی اجازت سے، اور نام یا گھر کی پہچان کے بغیر۔ روشنی اور فون کا پورا طریقہ موبائل سے product photography میں ہے، اور پس منظر صاف کرنے کے لیے مفت background remover ہے۔

7. پیکنگ: ڈبے کے کونے نہ پچکیں

کھلونے کا ڈبہ تحفے کا حصہ ہے۔ کونا پچکا ہوا ڈبہ دیکھ کر خریدار سمجھتا ہے کہ اندر بھی کچھ ٹوٹا ہوگا، اور سالگرہ کا تحفہ ہو تو وہ اسے دے بھی نہیں سکتا۔ اس لیے:

  • کھلونے کا ڈبہ سیدھا فلائر میں نہ ڈالیں۔ اسے ایک کچھ بڑے کارٹن میں رکھیں۔
  • کارٹن میں چاروں طرف خالی جگہ کاغذ یا ببل ریپ سے بھریں، تاکہ ڈبہ ہلے نہیں۔
  • کونوں پر الگ سے گتے کا ٹکڑا یا ببل ریپ لگائیں۔ ڈبہ گرے یا دبے تو چوٹ کونے پر ہی لگتی ہے۔
  • سافٹ ٹوائز ڈبے کے بغیر ہوں تو صاف پلاسٹک کی تھیلی میں ڈال کر فلائر میں بھیج سکتے ہیں۔
  • کارٹن جتنا بڑا، کورئیر کا خرچ اتنا ہو سکتا ہے۔ اپنے دو تین کارٹن کے سائز پہلے طے کر لیں۔

ڈبے کا سائز کورئیر کے خرچ پر کیسے اثر کرتا ہے اور کمزور مال کیسے پیک کریں، یہ packaging guide میں ہے، اور مختلف وزن پر کورئیر کا خرچ مفت courier charges calculator میں دیکھ لیں۔

8. «چھوٹا نکلا» اور «چلتا نہیں» کی واپسی

کیش آن ڈیلیوری میں کھلونا دروازے پر کھلتا ہے، اور دو باتوں پر لوٹتا ہے: سوچ سے چھوٹا نکلا، یا چلا نہیں۔ دونوں کا کورئیر کا خرچ آپ کا جاتا ہے۔ انہیں کم کرنے کے طریقے:

  • چھوٹا نکلا۔ صفحے پر ناپ انچ میں، اور ہاتھ میں یا بوتل کے ساتھ تصویر۔ آرڈر کنفرم کرتے وقت ایک بار ناپ دہرا دیں: «یہ بھالو تقریباً اتنے انچ کا ہے، ٹھیک ہے؟»
  • چلتا نہیں۔ بھیجنے سے پہلے چلا کر دیکھیں، ویڈیو رکھیں، اور سیل لگانے کی پرچی ساتھ ڈالیں۔ خریدار کہے کہ نہیں چلا تو پہلے فون پر سوئچ اور سیل کا پوچھیں۔
  • تحفے کا آرڈر۔ خریدار سے بچے کی عمر پوچھیں، اور عمر کے حساب سے کھلونا ٹھیک نہیں لگتا تو صاف بتائیں۔
  • واپسی کی وجہ لکھیں۔ ایک ہی ڈیزائن بار بار «چھوٹا» یا «خراب» آئے تو مسئلہ صفحے میں ہے یا مال میں، دکاندار کو بتائیں یا ڈیزائن ہٹا دیں۔

کنفرمیشن کال کیسے کریں، جعلی آرڈر کیسے پہچانیں اور ایڈوانس کب لیں، یہ reduce COD returns والی گائیڈ میں ہے۔

9. عید اور سالگرہ

کھلونوں کے دو طرح کے خریدار ہیں: جو سال بھر سالگرہ کے لیے خریدتے ہیں، اور جو عید پر بچوں کو عیدی کے ساتھ تحفہ دیتے ہیں۔ دونوں کی تیاری الگ ہے:

  • سالگرہ۔ یہ سال بھر کا کام ہے۔ عمر کے حساب سے تحفے کے سیٹ بنائیں، «1 سال کا تحفہ»، «5 سال کا تحفہ»، اور تحفے کی پیکنگ اور کارڈ کا آپشن رکھیں۔ سالگرہ کی تاریخ آرڈر کے وقت پوچھ لیں، اور اسی حساب سے بھیجیں۔
  • عید۔ عید سے کافی پہلے مال لے لیں، کیونکہ آخری ہفتوں میں تھوک بازار اور کورئیر دونوں بھرے ہوتے ہیں۔ اسٹور پر ایک آخری تاریخ لکھیں کہ اس کے بعد کا آرڈر عید سے پہلے پہنچنے کی ضمانت نہیں۔
  • گرمیوں کی چھٹیاں۔ پانی کے کھلونے اور باہر کے کھیل چھٹیوں سے پہلے اسٹور پر ہوں۔

عید پر رعایت، بنڈل اور آخری تاریخ کیسے رکھیں، یہ Eid sale والی گائیڈ میں ہے۔

10. قیمت کیسے نکالیں

کھلونے کی قیمت میں خرید کے علاوہ کئی چھوٹے خرچ چھپے ہیں۔ ہر پیس پر یہ جوڑیں:

  • کھلونے کی خرید، اور بازار سے لانے کا کرایہ۔
  • کارٹن، ببل ریپ، کونوں کا گتا، اور تحفے کی پیکنگ اگر دیتے ہیں۔
  • سیل، اگر ساتھ بھیج رہے ہیں۔
  • کورئیر کا خرچ، جو بڑے ڈبے پر زیادہ ہو سکتا ہے۔
  • جانچ میں نکلے خراب پیس، جو دکاندار نے واپس نہ لیے۔
  • واپس آئے پارسل کا خرچ، اور اشتہار اگر چلاتے ہیں۔

بچا ہوا مال بھی حساب میں رکھیں۔ کارٹون کا کردار پرانا ہو جائے تو وہ کھلونا رعایت پر نکالنا پڑتا ہے۔ پورا طریقہ how to price products میں ہے، اور ایک آرڈر کا منافع واپسی سمیت COD profit calculator میں دیکھ لیں۔

11. اپنا کھلونوں کا اسٹور

کھلونے Instagram اور TikTok پر خوب دکھتے ہیں، مگر وہاں ہر خریدار عمر، ناپ اور قیمت الگ الگ پوچھتا ہے۔ اپنے اسٹور پر ہر کھلونے کا اپنا صفحہ ہو: تصویریں، ویڈیو، قیمت، عمر، انچ میں ناپ، ڈبے میں کیا ہے، اور بیٹری کی تفصیل۔ اسٹور کو عمر اور قسم کے حساب سے حصوں میں رکھیں، تاکہ تحفہ ڈھونڈنے والا سیدھا «3 سے 5 سال» پر جائے۔ خریدار پڑھ کر خود نام، فون اور پتہ ڈال کر آرڈر دے۔

پارسل آپ آرڈر اسکرین سے PostEx، Leopards یا TCS پر بک کریں، اور ٹریکنگ نمبر خریدار کو واٹس ایپ پر چلا جاتا ہے، تو سالگرہ سے ایک دن پہلے کوئی پوچھے کہ تحفہ کہاں ہے، تو جواب آرڈر پر لکھا ملتا ہے۔ بچوں کے کپڑے بھی ساتھ رکھنے ہوں تو بچوں کے کپڑوں کا کاروبار والی گائیڈ دیکھیں، اور رنگ، آرٹ کا سامان اور اسکول کے سیٹ بھی رکھنے ہوں تو اسٹیشنری کا کاروبار والی۔

عام سوالات

Toys ka business kaise kare؟

ایک عمر کا گروپ اور ایک قسم کا کھلونا چنیں، جیسے 1 سے 3 سال کے لیے سیکھنے والے کھلونے یا سافٹ ٹوائز۔ تھوک سے ہر ڈیزائن کم مقدار میں لیں، ہر پیس کو کھول کر حفاظت کے لیے جانچیں، بیٹری والے کھلونے چلا کر دیکھیں، اور ہر صفحے پر عمر اور ناپ لکھیں۔ جو ڈیزائن پہلے ہفتوں میں بکیں، انہی کا دوبارہ آرڈر دیں۔

کھلونوں کی تھوک مارکیٹ کہاں ہے؟

ہر بڑے شہر کے تھوک بازاروں میں کھلونوں کی دکانیں ہوتی ہیں، مگر ہمیں کسی خاص کھلونا مارکیٹ کا کوئی بھروسے والا ذریعہ نہیں ملا، اس لیے نام نہیں لکھ رہے۔ اپنے شہر کے تھوک بازار میں خود جا کر دیکھیں، اور دوسرے شہر سے مال منگوانے اور سپلائر پرکھنے کا طریقہ wholesale suppliers والی گائیڈ میں ہے۔

چھوٹے بچوں کے کھلونوں میں کیا خطرناک ہے؟

American Academy of Pediatrics چھوٹے یا نکلنے والے حصوں والے کھلونوں سے بچنے کو کہتی ہے، بٹن بیٹری کو چوکنگ اور اندرونی جلن کا خطرہ کہتی ہے، اور غبارے کو 8 سال تک کے بچوں کے لیے چوکنگ کا خطرہ بتاتی ہے۔ ہر پیس کو کھینچ کر دیکھیں، بیٹری کا ڈھکن پیچ سے بند ہو، اور تیز کنارہ یا تیز بو والا مال نہ رکھیں۔

کیا کورئیر بیٹری والے کھلونے لے جاتا ہے؟

یہ کورئیر اور سروس پر ہے، اور شرطیں بدلتی رہتی ہیں، اس لیے بک کرنے سے پہلے اپنے کورئیر سے لکھ کر پوچھیں: سیل لگے ہوئے بھیج سکتے ہیں یا الگ، اور ریچارج ہونے والی لیتھیم بیٹری والا کھلونا جاتا ہے یا نہیں۔ جواب کا میسج سنبھال کر رکھیں۔

Soft toys ka business kaise kare؟

سافٹ ٹوائز ہلکے ہوتے ہیں اور کم ٹوٹتے ہیں، اس لیے آن لائن آسان ہیں۔ ہر کھلونے کی آنکھیں، ناک اور بٹن زور سے کھینچ کر دیکھیں، سلائی کہیں سے کھلی نہ ہو، اور صفحے پر انچ میں اونچائی لکھیں، کیونکہ تصویر میں سافٹ ٹوائے کا ناپ اندازے سے بڑا یا چھوٹا لگ سکتا ہے۔

آپ کے کھلونوں کو اب اپنی دکان چاہیے۔ Storelala پاکستان کے لیے شاپیفائی کا متبادل ہے: آپ کا اپنا اسٹور yourbrand.storelala.com پر، کیش آن ڈیلیوری پہلے سے موجود، کوئی مارکیٹ پلیس کمیشن نہیں، اور سب کچھ فون سے چلتا ہے۔ Storelala پر مفت شروع کریں، کارڈ کی ضرورت نہیں۔

Ready to build your online business?

آج ہی اپنی آن لائن دکان مفت شروع کریں۔