گائیڈ
Bacho ke kapde ka business: بچوں کے کپڑوں کا آن لائن کاروبار
بچوں کے کپڑے ماں باپ خریدتے ہیں، اور وہ تین چیزیں دیکھتے ہیں: کپڑا نرم ہے، سائز ٹھیک آئے گا، اور دھلائی کے بعد بھی ویسا رہے گا۔ یہاں ہے کہ مال کہاں سے لیں، عمر اور ناپ کا سائز چارٹ کیسے بنائیں، بچے کو ماڈل بنانے سے پہلے کیا اجازت لیں، اور غلط سائز کی واپسی کیسے کم کریں۔ یعنی bacho ke kapde ka business kaise shuru kare کا عملی جواب۔
1. کس عمر کے لیے بیچیں
بچوں کے کپڑوں میں خریدار بچہ نہیں، ماں باپ ہیں، اور وہ تین چیزیں دیکھتے ہیں: کپڑا نرم ہے یا نہیں، سائز ٹھیک آئے گا یا نہیں، اور دھلائی کے بعد رنگ اور ناپ وہی رہے گا یا نہیں۔ ہر عمر کا گروپ ان میں سے کسی ایک پر زیادہ زور دیتا ہے۔
- نوزائیدہ اور ایک سال تک۔ بابا سوٹ، رومپر، ٹوپی اور جرابیں۔ یہاں کپڑے کی نرمی سب سے اہم ہے، اور تحفے میں خوب خریدے جاتے ہیں۔ سائز مہینوں میں چلتا ہے۔
- 1 سے 5 سال۔ فراک، شلوار قمیض، ٹی شرٹ اور نیکر۔ بچہ ہر چند مہینے میں سائز بدلتا ہے، تو والدین بار بار خریدتے ہیں۔
- 6 سے 12 سال۔ یہاں بچے کی اپنی پسند آ جاتی ہے، اور عید کے کرتے، فینسی فراک اور جینز زیادہ چلتی ہیں۔
ایک گروپ سے شروع کریں، اور اس میں بھی لڑکیاں یا لڑکے۔ ہر ڈیزائن چھ سات عمروں میں آتا ہے، تو دس ڈیزائن بھی مل کر اتنا مال بن جاتا ہے جو پہلے مہینے میں نہیں بکتا۔
2. مال کہاں سے لیں
بچوں کے کپڑوں کی کوئی الگ سرکاری فہرست والی تھوک مارکیٹ ہمیں نہیں ملی۔ یہ مال عموماً بڑے کپڑا بازاروں کے اندر ہی ہوتا ہے، تو وہاں سے شروع کریں:
- لاہور، اعظم کلاتھ مارکیٹ۔ Walled City of Lahore Authority کے بازاروں کے صفحے کے مطابق یہ ایشیا کی سب سے بڑی تھوک کپڑا مارکیٹ ہے، جہاں کھدر اور سلک سے لے کر تیار کپڑے اور دلہن کے جوڑے تک ملتے ہیں۔ اسی صفحے پر پاکستان کلاتھ مارکیٹ کو پرچون کی مارکیٹ لکھا ہے۔
- راولپنڈی، راجہ بازار۔ Wikipedia کے مطابق شہر کی سب سے بڑی تھوک مارکیٹ، جس کا ایک حصہ کپڑا بازار ہے۔
- فیصل آباد۔ ٹیکسٹائل کی وجہ سے پاکستان کا مانچسٹر کہلاتا ہے۔ یہاں دکانوں سے زیادہ بنانے والے ڈھونڈیں، جب آپ اپنے ڈیزائن بنوانے لگیں۔
تھوک دکانوں کے پیچھے اکثر کوئی چھوٹا کارخانہ ہوتا ہے۔ چند مہینے کام چل جائے تو اسی سے سیدھا بات کریں: اپنا کپڑا، اپنا پرنٹ اور اپنا لیبل۔ ہر شہر کی باقی مارکیٹیں، سپلائر کو کیسے پرکھیں اور WhatsApp پر دوسرے شہر سے مال کیسے منگوائیں، یہ سب wholesale suppliers والی گائیڈ میں ہے۔
ریٹ اور کم از کم مقدار ہر دکان کی اپنی ہے، اور ڈیزائن اور موسم کے ساتھ بدلتی ہے، اس لیے ہم کوئی ریٹ نہیں لکھ رہے۔ پہلا مال لینے سے پہلے ہر دکان سے یہ پوچھیں:
- ایک ڈیزائن کم از کم کتنا لینا ہوگا، اور کیا عمر کا پورا سیٹ لینا لازمی ہے یا کچھ عمریں الگ مل سکتی ہیں۔
- کپڑا کیا ہے، اور کیا یہ ایک دھلائی میں سکڑتا ہے یا رنگ چھوڑتا ہے۔
- دوسری بار وہی ڈیزائن اور وہی رنگ ملے گا یا نہیں۔
- خراب پیس، جیسے ٹیڑھی سلائی یا داغ، واپس لیں گے یا نہیں۔
ہر ڈیزائن کا ایک پیس خرید کر گھر پر ایک بار دھو کر دیکھیں۔ ناپ پہلے اور بعد میں لکھیں۔ جو کپڑا ایک دھلائی میں سکڑ گیا، وہ خریدار کے گھر بھی سکڑے گا، اور وہ اگلی بار آپ سے نہیں خریدے گا۔
3. بچے کی جلد اور کپڑا
بچوں کے کپڑوں میں والدین سب سے پہلے کپڑے کو ہاتھ لگا کر دیکھتے ہیں۔ آن لائن وہ یہ نہیں کر سکتے، تو آپ کی تفصیل ہی ان کا ہاتھ ہے۔ چند باتیں جن کے پیچھے اصل ذرائع ہیں:
- کاٹن۔ American Academy of Dermatology ایگزیما والے بچوں کے لیے ڈھیلے، 100 فیصد کاٹن کے کپڑے بتاتی ہے، اون اور پولیسٹر سے بچنے کو کہتی ہے، اور کہتی ہے کہ سلائی اور ٹیگ جہاں جلد کو چھوتے ہیں وہاں خارش بڑھ سکتی ہے، اس لیے ٹیگ کاٹ دیں۔ چھوٹے بچوں کے سامان میں نرم کاٹن اور اندر سے صاف سلائی رکھیں۔
- بٹن، موتی اور ستارے۔ American Academy of Pediatrics کی چوکنگ سے بچاؤ کی گائیڈ کے مطابق شیر خوار اور چھوٹے بچے سب سے زیادہ خطرے میں ہیں کیونکہ وہ ہر چیز منہ میں ڈالتے ہیں، اور وہ کھلونوں میں بھی چھوٹے یا نکلنے والے حصوں سے بچنے کو کہتی ہے۔ عید کے فینسی جوڑوں میں ہر بٹن اور موتی کھینچ کر دیکھیں، اور ڈھیلا کام ہو تو وہ ڈیزائن چھوٹی عمر کے لیے نہ رکھیں۔
- گلے اور ہڈ کی ڈوری۔ امریکی ادارہ CPSC بچوں کی جیکٹ اور ہڈی میں گلے اور ہڈ کی ڈوری کو 2T سے 12 تک کے سائز میں گلا گھٹنے کا خطرہ کہتا ہے۔ یہ امریکہ کا قاعدہ ہے، پاکستان کا قانون نہیں، مگر سردیوں کی ہڈی منگوائیں تو چھوٹے بچوں کے لیے بغیر ڈوری والی لیں۔
پروڈکٹ کے صفحے پر کپڑے کا نام صاف لکھیں: «کاٹن»، «کاٹن جرسی»، «پولیسٹر مکس»۔ اگر دکاندار نے کاٹن کہا ہے اور آپ کو یقین نہیں تو «نرم کپڑا» لکھیں، «100 فیصد کاٹن» نہیں۔ ماں ایک بار دھوکا کھا لے تو دوسری بار نہیں آتی۔
4. سائز: عمر یا ناپ
بچوں کے کپڑے زیادہ تر عمر سے بکتے ہیں: «2 سے 3 سال»، «4 سال»۔ کچھ کارخانے عمر کی جگہ نمبر لکھتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ایک ہی عمر کے دو بچوں میں کافی فرق ہوتا ہے، اور ایک کارخانے کا «4 سال» دوسرے کے «4 سال» سے چھوٹا ہو سکتا ہے۔ عمر خریدار کو اندازہ دیتی ہے، ناپ واپسی روکتا ہے۔
- ہر ڈیزائن کے ہر سائز کا سینہ اور لمبائی خود ناپیں، شلوار یا پاجامے کی لمبائی اور کمر بھی۔
- صفحے پر عمر کے ساتھ یہ ناپ انچ میں لکھیں۔
- والدین کو بتائیں کہ بچے کی کوئی قمیض جو ٹھیک آتی ہو، اسے میز پر سیدھا رکھ کر بغل سے بغل اور کندھے سے نیچے تک ناپیں، اور آپ کے چارٹ سے ملائیں۔ یہ بچے کو کھڑا کر کے ناپنے سے آسان ہے۔
- اگر کوئی ڈیزائن چھوٹا بنتا ہے تو صاف لکھیں: «یہ ڈیزائن ایک سائز بڑا لیں»۔
مفت size chart maker میں «Kids' clothes» چنیں تو 2 سے 14 سال تک کا چارٹ بنتا ہے، جس میں قد، سینہ، کمر، ہپ اور قمیض کی لمبائی انچ میں ہے۔ یہ ایک عام اندازہ ہے: ہر خانہ اپنے ناپے ہوئے مال کے مطابق بدل دیں، پھر تصویر بنا کر ہر پروڈکٹ پر لگائیں۔
بچہ بڑھ رہا ہے، اس لیے کئی والدین جان بوجھ کر ایک سائز بڑا لیتے ہیں تاکہ کپڑا اگلے سیزن تک چلے۔ صفحے پر لکھ دیں کہ ڈیزائن ناپ کے مطابق ہے یا ڈھیلا، تاکہ وہ خود فیصلہ کر سکیں۔
5. سیٹ اور بنڈل
بچوں کے کپڑوں میں ایک پیس کا آرڈر چھوٹا ہوتا ہے، اور کورئیر کا خرچ اس کے مقابلے میں بھاری پڑتا ہے۔ سیٹ اور بنڈل ایک آرڈر کو بڑا کرتے ہیں:
- پورا جوڑا۔ کرتا، پاجامہ اور واسکٹ، یا فراک کے ساتھ ٹائٹس اور ہیئر بینڈ، ایک ہی قیمت پر۔
- روز کے کپڑوں کا بنڈل۔ ایک ہی سائز کی تین ٹی شرٹیں، یا تین بابا سوٹ، الگ رنگوں میں۔
- بہن بھائی کا سیٹ۔ ایک ہی کپڑے میں بیٹی کی فراک اور بیٹے کا کرتا۔ عید اور شادیوں پر خوب پوچھا جاتا ہے۔
- نوزائیدہ کا تحفہ۔ بابا سوٹ، ٹوپی، جرابیں اور بِب ایک ڈبے میں۔ تحفہ دینے والا سائز کی فکر نہیں کرتا۔
بنڈل میں ہر پیس کا سائز ایک ہی رکھیں، یا آرڈر کے وقت ہر پیس کا الگ پوچھیں۔ ورنہ ایک غلط سائز پورا بنڈل واپس لے آتا ہے۔
اسکول کھلنے کے دنوں میں یونیفارم کے ساتھ بیگ، لنچ باکس اور بوتل بھی بکتے ہیں، جس کا طریقہ school bag ka business والی گائیڈ میں ہے۔
6. عید اور موسم کا مال
بچوں کے کپڑوں کا بڑا سیزن عید ہے، کیونکہ عید پر بچوں کے نئے کپڑے خریدنا عام ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ آخری ہفتوں میں تھوک بازار میں ہر کوئی یہی مال مانگ رہا ہوتا ہے، اور کورئیر بھی بھرے ہوتے ہیں۔
- عید کا مال عید سے کافی پہلے طے کریں، اور جو ڈیزائن پہلے ہفتے میں چلیں، انہی کا دوبارہ آرڈر دیں۔
- اسٹور پر ایک آخری تاریخ لکھ دیں کہ اس کے بعد کا آرڈر عید سے پہلے پہنچنے کی ضمانت نہیں۔
- عید کے بعد بچا ہوا فینسی مال جلدی نکالیں۔ اگلی عید تک بچہ بھی بڑا ہو جاتا ہے اور فیشن بھی بدل جاتا ہے۔
عید کے علاوہ گرمی کے کاٹن اور لان، سردی کے سویٹر اور ہڈی، اور شادیوں کے موسم کے جوڑے الگ سیزن ہیں۔ ہر سیزن کا مال سیزن شروع ہونے سے پہلے اسٹور پر ہو، ورنہ خریدار کہیں اور سے لے چکا ہوتا ہے۔
7. تصویریں: فلیٹ لے یا بچہ ماڈل
بچوں کے کپڑوں کی تصویر کے دو طریقے ہیں، اور دونوں ملا کر بھی چلائے جا سکتے ہیں۔
فلیٹ لے
کپڑا صاف فرش یا چادر پر سیدھا بچھا کر اوپر سے تصویر۔ یہ آسان ہے، ہر ڈیزائن ایک جیسا دکھتا ہے، اور کسی بچے کی ضرورت نہیں۔ ہر ڈیزائن کی یہ تصویریں رکھیں:
- پورا جوڑا اوپر سے، استری کر کے۔
- کپڑے کے اوپر فیتہ رکھ کر ایک تصویر، تاکہ ماں سینہ اور لمبائی خود دیکھ لے۔
- کپڑے کی بُنت اور کڑھائی قریب سے، اور اندر کی سلائی۔
بچہ ماڈل
بچے پر کپڑا دیکھ کر ماں کو فٹنگ کا اندازہ ہوتا ہے، اور تصویر زیادہ بکتی ہے۔ مگر یہاں آپ کسی اور کے بچے کی تصویر پوری دنیا کو دکھا رہے ہیں۔ UNICEF اپنی رپورٹنگ کی ہدایات میں کہتا ہے کہ بچے کی ویڈیو یا تصویر کے لیے بچے اور اس کے سرپرست دونوں سے اجازت لی جائے، ہو سکے تو لکھ کر، اور انہیں سمجھ ہو کہ یہ کہاں تک پہنچ سکتی ہے۔ کاروبار کے لیے بھی یہی اصول رکھیں:
- اپنے یا قریبی رشتہ داروں کے بچے لیں، اور والدین سے لکھ کر اجازت لیں، WhatsApp میسج بھی چلے گا۔
- بتائیں کہ تصویر کہاں جائے گی: اسٹور، Instagram، Facebook، اشتہار۔
- بچے کا نام، اسکول، گلی یا گھر کی پہچان تصویر میں یا کیپشن میں نہ ہو۔
- والدین کہیں تو تصویر ہٹا دیں، بغیر بحث کے۔
- خریدار اپنے بچے کی تصویر ریویو میں بھیجے تو پوسٹ کرنے سے پہلے پوچھیں۔ چہرہ چھپا کر لگانا بہتر ہے۔
دن کی روشنی میں کھینچیں اور رنگ میں فلٹر نہ لگائیں۔ پس منظر صاف کرنے کے لیے مفت background remover ہے، اور فون سے پورا طریقہ موبائل سے product photography میں ہے۔
8. غلط سائز کی واپسی کیسے کم کریں
کیش آن ڈیلیوری میں ماں دروازے پر پارسل کھول کر جوڑا بچے پر لگا کر دیکھتی ہے، اور چھوٹا لگے تو لوٹا دیتی ہے۔ کورئیر کا جانے اور آنے کا خرچ آپ کا جاتا ہے۔ یہ کم کرنے کے طریقے:
- آرڈر کنفرم کرنے کی کال یا میسج میں صرف عمر نہ پوچھیں، قد بھی پوچھیں: «بچے کا قد تقریباً کتنا ہے؟»
- اگر بچہ عمر کے حساب سے لمبا یا بھاری ہے تو خود بتائیں کہ ایک سائز بڑا لیں۔
- تحفے کا آرڈر ہو اور خریدار کو سائز نہ پتا ہو، تو بڑا سائز یا ڈھیلا ڈیزائن تجویز کریں۔
- بتائیں کہ سائز بدلنا آسان ہے، تاکہ ماں دروازے پر انکار کی بجائے بعد میں ایکسچینج مانگے۔
- ہر واپسی کی وجہ لکھیں۔ اگر ایک ہی ڈیزائن بار بار «چھوٹا» آ رہا ہے تو مسئلہ چارٹ میں ہے۔
کنفرمیشن کال کا پورا طریقہ، جعلی آرڈر پہچاننا اور ایڈوانس کب لیں، reduce COD returns والی گائیڈ میں ہے۔
9. سائز بدلنے کی پالیسی
بچوں کے کپڑوں میں سائز غلط ہو تو خریدار عموماً پیسے واپس نہیں، وہی جوڑا دوسرے سائز میں چاہتا ہے۔ اس لیے ایکسچینج کی پالیسی پہلے دن سے لکھ دیں:
- کتنے دن کے اندر سائز بدلا جا سکتا ہے، ڈیلیوری کی تاریخ سے گن کر۔
- کپڑا دھلا اور پہنا ہوا نہ ہو، ٹیگ لگا ہو اور تھیلی ساتھ ہو۔ بچوں کے کپڑے پر داغ جلدی لگتا ہے، یہ شرط ضروری ہے۔
- آپ کی غلطی ہو تو دونوں طرف کا کورئیر آپ کا۔ خریدار نے سائز غلط چنا ہو تو کس کا، یہ بھی لکھیں۔
- عید سے پہلے کے آخری دنوں میں ایکسچینج عید سے پہلے پہنچنے کی ضمانت نہیں۔
- سیل کا مال اور نوزائیدہ کے اندر پہننے والے کپڑے بدلے جائیں گے یا نہیں۔
پنجاب اور سندھ کے صارف قانون کیا کہتے ہیں اور پوری پالیسی کا نمونہ return and exchange policy والی گائیڈ میں ہے، اور مفت store policy generator سے اپنی پالیسی کا صفحہ بنا سکتے ہیں۔
10. قیمت کیسے نکالیں
بچوں کے کپڑے سستے لگتے ہیں، تو ان کی قیمت میں چھوٹے خرچ آسانی سے بھول جاتے ہیں۔ ہر پیس پر یہ جوڑیں:
- کپڑے کی خرید، اور بازار سے لانے کا کرایہ۔
- تھیلی، ٹیگ، فلائر، اور تحفے والے سیٹ کا ڈبہ۔
- کورئیر کا خرچ۔ ایک چھوٹے پیس پر یہ خرچ قیمت کا بڑا حصہ ہو سکتا ہے، اس لیے سیٹ اور بنڈل۔
- سائز بدلنے کا وہ کورئیر جو آپ نے اپنی پالیسی میں اٹھایا ہے، اور واپس آئے پارسل کا خرچ۔
- اشتہار، اگر چلاتے ہیں۔
بچا ہوا مال بھی حساب میں رکھیں۔ ہر ڈیزائن کی سب سے چھوٹی اور سب سے بڑی عمر دیر سے بکتی ہے، اور عید کا فینسی مال عید کے بعد رعایت پر نکالنا پڑتا ہے۔ پورا طریقہ how to price products میں ہے، اور ایک آرڈر کا منافع واپسی سمیت COD profit calculator میں دیکھ لیں۔
11. اپنا بچوں کے کپڑوں کا اسٹور
بچوں کے کپڑے Instagram اور WhatsApp پر خوب دکھتے ہیں، مگر وہاں ہر ماں سائز، کپڑا اور قیمت الگ الگ پوچھتی ہے۔ اپنے اسٹور پر ہر ڈیزائن کا اپنا صفحہ ہو: تصویریں، قیمت، کپڑے کا نام، ہر عمر کا ناپ، سائز چارٹ اور ایکسچینج کی پالیسی۔ خریدار پڑھ کر خود نام، فون اور پتہ ڈال کر آرڈر دے، اور آپ کی کنفرمیشن کال سائز پکا کرنے کے لیے رہ جائے۔
پارسل آپ آرڈر اسکرین سے PostEx، Leopards یا TCS پر بک کریں، اور ٹریکنگ نمبر خریدار کو واٹس ایپ پر چلا جاتا ہے، تو عید سے پہلے کوئی پوچھے کہ جوڑا کہاں پہنچا، تو جواب آرڈر پر لکھا ملتا ہے۔ بڑوں کے کپڑے بھی ساتھ رکھنے ہوں تو آن لائن کپڑوں کا کاروبار والی گائیڈ دیکھیں، اور ساتھ کھلونے رکھنے ہوں تو toys ka business والی گائیڈ میں حفاظت کی جانچ اور پیکنگ ہے۔
عام سوالات
Bacho ke kapde ka business kaise shuru kare؟
ایک عمر کا گروپ چنیں، جیسے نوزائیدہ، 1 سے 5 سال یا 6 سے 12 سال۔ تھوک بازار یا کسی چھوٹے کارخانے سے چند ڈیزائن کم مقدار میں لیں، ہر ڈیزائن کا سینہ اور لمبائی خود ناپ کر سائز چارٹ بنائیں، صاف تصویریں لیں، اور سائز بدلنے کی پالیسی پہلے دن سے لکھ دیں۔ پہلا سیزن عید کا ہو تو مال کافی پہلے لے لیں۔
بچوں کے کپڑوں کی تھوک مارکیٹ کہاں ہے؟
لاہور میں اعظم کلاتھ مارکیٹ، جسے Walled City of Lahore Authority ایشیا کی سب سے بڑی تھوک کپڑا مارکیٹ کہتی ہے اور جہاں تیار کپڑے بھی ملتے ہیں۔ راولپنڈی میں راجہ بازار شہر کی سب سے بڑی تھوک مارکیٹ ہے۔ فیصل آباد ٹیکسٹائل کا شہر ہے جہاں بنانے والے ملتے ہیں۔ بچوں کے کپڑوں کی الگ دکانیں ان بازاروں کے اندر ہیں، تو ایک بار جا کر خود ڈھونڈیں۔
بچوں کے کپڑوں کا سائز عمر سے بتائیں یا ناپ سے؟
دونوں لکھیں، مگر فیصلہ ناپ سے کریں۔ ایک ہی عمر کے دو بچوں کا قد اور سینہ کافی مختلف ہو سکتا ہے، اور ہر کارخانے کا «4 سال» بھی ایک جیسا نہیں ہوتا۔ ہر ڈیزائن کا سینہ اور لمبائی ناپ کر لکھیں، اور والدین سے بچے کا قد یا اس کی کوئی ٹھیک آنے والی قمیض کا ناپ مانگیں۔
کیا اپنے بچے کو کپڑوں کی تصویروں میں ماڈل بنانا ٹھیک ہے؟
اپنے یا رشتہ داروں کے بچے ماڈل بن سکتے ہیں، مگر والدین سے پہلے لکھ کر اجازت لیں اور بتائیں کہ تصویر اسٹور اور سوشل میڈیا پر کہاں کہاں جائے گی۔ بچے کا نام، اسکول یا گھر کا پتہ کبھی نہ لکھیں، اور والدین کہیں تو تصویر ہٹا دیں۔ خریدار کے بچے کی تصویر اس کی اجازت کے بغیر نہ لگائیں۔
چھوٹے بچوں کے کپڑوں کے لیے کون سا کپڑا بہتر ہے؟
American Academy of Dermatology ایگزیما والے بچوں کے لیے ڈھیلے، 100 فیصد کاٹن کے کپڑے بتاتی ہے اور اون اور پولیسٹر سے بچنے کو کہتی ہے، کیونکہ سلائی اور ٹیگ جہاں جلد کو چھوتے ہیں وہاں خارش بڑھ سکتی ہے۔ بیچتے وقت صفحے پر صاف لکھیں کہ کپڑا کیا ہے، اور «کاٹن» صرف تب لکھیں جب واقعی ہو۔
آپ کے بچوں کے کپڑوں کو اب اپنی دکان چاہیے۔ Storelala پاکستان کے لیے شاپیفائی کا متبادل ہے: آپ کا اپنا اسٹور yourbrand.storelala.com پر، کیش آن ڈیلیوری پہلے سے موجود، کوئی مارکیٹ پلیس کمیشن نہیں، اور سب کچھ فون سے چلتا ہے۔ Storelala پر مفت شروع کریں، کارڈ کی ضرورت نہیں۔